باب کے نام بقرہ ، 241 آیات کی تعداد 241

 وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًا عَلَى الْمُتَّقِينَ

ترجمہ :

( شوہر کی طرف سے ) تمام مطلقہ عورتوں کو ہدیہ دیا جانامناسب ہے۔ یہ پرہیزگار مردوں پرحق ہے ۔

مفسر: آیت الله مکارم شیرازی
تشریح:

آیت کے پہلے حصے میں حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو موت کے آستانے تک جا پہنچیںاور اپنی بیویاں پیچھے چھوڑجائیں تو انہیں وصیت کرناچاہےے کہ ان کے پسماندگان ایک سال تک ان کے مال سے ان کی بیویوں کے اخراجات ادا کریں۔ اس لےے لفظ” یتفون “ مرنے کے معنی میں نہیں بلکہ ذکر وصیت کے قرینہ سے موت کے آستانہ پر جا پہنچنا مراد ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ عورت بھی شوہر کی موت کے بعد ایک سال تک اس کے گھر میں رہے اور اس سے باہر نہ نکلے ” غیر اخراج “
” فان خرجن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن “
یہ جملہ دو معانی پرمنطبق ہو سکتا ہے۔
۱۔ عورت کا حق ہے کہ مرد کے وارث ایک سال تک اس کے مصارف ادا کریں لیکن اگر عورت اپنی خوشی سے ایک سال کا خرچ نہ لے اور شوہر کے گھر میں بھی نہ رہے تو پھر کوئی اس کا جواب دہ نہیں ہے اور اگر عورت دوسری شادی کر لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت میں اجازت دی گئی ہے کہ عورت پہلے سال کے دوران میں نان ونفقہ سے صرف نظر کرکے سابق شوہر کے گھر چلی جائے۔
دوسرے معنی کے مطابق ایک سال تک کی مدت گزارناعورت پر لازمی ہے دوسرے لفظوں میں ایک سال تک مکمل عدت گزارناعورت کے لےے ” حکم “ کی حیثیت رکھتا ہے نہ یہ کہ اس کا حق ہے جیسا کہ پہلے مفہوم میں ظاہر ہوتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کونسی بفسیر آیت کے مفہوم سے میل کھاتی ہے اور مناسب ہے۔
کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے ؟
بعض مفسرین کا کہتے ہیں کہ یہ آیت اسی سورہ کی آیت ۲۳۴ کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہے۔اس میں عدت وفات چار ماہ اور دس دن معین کی گئی ہے اگرچہ وہ آیت تنظیم اور ترتیب کے اعتبار سے پہلے آئی ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ سورتوں کی آیات کی تنظیم تاریخ نزول کے مطابق نہیںہے۔بلکہ بغض اوقات وہ آیات جو بعد میں نازل ہوئی ہیں سورہ کے آخر میں ہیں اور ایسا آیات کی مناسبت کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ اور یہ فرمان پیغمبر کے مطابق ہی ہے۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ جیسا آیت ۲۳۴ کی تفسیر میں گذر چکا ہے زمانہ جاہلیت میں عدت وفات ایک سال سمجھی جاتی تھی اور اس مدت میں عورت کے لیے خرافات پر مبنیاور تکلیف و رسوم رائج تھیں۔ اسلام نے جاہلیت کی اس رسم کو ختم کر دیا۔ پہلے عدت کو ایک سال کے لےے مقرر قراردیا بعد از اں اس ایک سال کی مدت کو ختم کرکے چار مہینے اور دس دن کی عدت معین کی اور اس عرصے میں عورت کو صرف زیب و زینت سے منع کیا گیا۔
لیکن آیت کی منسوخی کے بارے میں یہ دلائل قابل قبول نہیں کیونکہ نسخ تو اس وقت ہو سکتاہے جب ہم آیت کے دوسرے معنی مراد لیں یعنی اس آیت کا مفہوم یہ سمجھیں کہ ایک سال تک گھر سے نہ نکلنا عورت کے ذمے فرض ہے ، یہ عورت کا حق نہیں ہے۔ اگر پہلا مفہوم مراد لیا جائے جب کہ وہ آیت سے بہت زیادہ مناسبت بھی رکھتاہے تو پھر نسخ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ اس آیت میں اخراجات کے حصول اور امکان سے فائدہ اٹھانے کو ایک سال تک کی عدت سے مشروط کر دیا ہے۔ اس میں عورت کو حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو چار ماہ اور دس دن بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے اور نئی شادی کرلے بہذا اس صورت میں فطری طور پر اس کی زندگی کے مصارف پہلے شوہر کے مال سے منقطع ہو جائیں گے۔
اصطلاح کی رو سے چار ماہ دس دن کی عدت رکھنا عورت کے لےے ایک حکم الزامی ہے اور اس میں عورت کا انتخاب کوئی اثر نہیں رکھتا البتہ ایک سال تک اسے جاری رکھنا یہ عورت کا حق ہے اور وہ اس حق سے استفادہ کرسکتی ہے اور یہ عدت اختیار کرکے اپنے لےے اخراجات حاصل کر سکتی ہے اور اسے یہ بھی حق پہنچتا ہے کہ ان سے صرف نظر کرکے شوہر کے گھر چلی جائے اور نئی شادی کرلے ۔
” من معروف “ یہ تعبیر اس بات کی طرف کو اشارہ ہے کہ عورتیں مجاز ہیں کہ ہر شائستہ اور مناسب اقدام کر سکیں۔ ( یہاں اس سے مراد شادی کرنا ہے ) اور اس سلسلے میں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے۔
” واللہ عزیز حکیم “ آیت کے آخر میں اس بناء پر کہ ایسی عورتیں اپنی آئندہ کی زندگی سے پریشان نہ ہوں ان کی دلجوئی کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہےگ خدا قادر ہے کہ پہلے شوہر کی وفات کے بعد ان کے لےے کوئی اور راہ کھول دے اور انہیں کوئی مصیبت پہنچی ہے تو اس میں کوئی حکمت تھی، خلاصہ یہ کہ اگر خداوند عالم حکمت کی وجہ سے ایک دروازہ بند کرتا ہے تو اپنے لطف و کرم سے دوسرا کھول دیتا ہے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

تفسیر

جیسا کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے ایسے مواقع پر متاع سے مراد یہ ہدیہ ہے جومرد عورت کو طلاق کے بعد دیتا ہے۔ یہ آیت احکام طلاق کا خاتمہ ہے اسمیں بھی جذبہ انتقام کو زیادہ سے زیادہ ختم کرنے لےے اور بغض و کینہ کے خاتمے کے لیے مطلقہ عورتوں کے بارے میں پھر سفارش کی گئی ہے۔ آیت کہتی ہے کہ مردوں کے فرائض میں داخل ہے کہ جب اپنی بیوی کو طلاق دیں تو انہیں ہدیہ پیش کریں اور یہ فریضہ تمام پرہیزگاروں پر عائد کیا گیا ہے۔ البتہ اس آیت کا ظاہری مفہوم سب عورتوں کے بارے میں ہے لیکن جیسا کہ آیت ۲۳۶ میں کہا جا چکا ہے کہ ہدیہ دینا صرف اس صورت میں واجب ہے کہ حق مہر معین نہ ہوا ہو اور رخصتی بھی نہ ہوئی ہو۔ اس بنا پر یہ حکم باقی صورتوں کے لےے مستحب ہوگا۔ در اصل اسلام کا یہ حکم انسانی پہلو کا حامل ہے۔
” کذالک یبین اللہ لکم ایاتہ لعلکم تعقلون“
آیات اور اسلامی روایات کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عقل کا ذکر زیادہ تر ایسے مواقع پر آتا ہے جہاں فہم و ادراک کا تعلق عواطف و احساسات سے بھی ہو اور کے بعد عمل کا موقع ہو مثلا قرآن خدا شناسی کے بہت سے مباحث میں عجیب و غریب جہان کے نظام کو بیان کرتاہے اور اس کے بعد کہتاہے کہ ہم نے ان آیات اور نشانیوں کو اس لےے بیان کرتے ہیں کہ (” لعلکم تعقلون“) شاید تم تعقل و تفکر کرو تو اس سے مقصود یہ نہیں کہ فقط نظام طبیعت کی معلومات کو دماغ میں جگہ دو ۔ کیونکہ طبیعی و مادی علوم کے ساتھ دل اور احساس کا تعلق پیدا نہ ہو اورخالق کائنات کی محبت ،دوستی اور آشنائی میں یہ کام نہ آئیںتو پھر مسائل توحید اور خدا شناسی سے ان کا کوئی ربط نہ ہوگا۔
اس طرح عملی پہلو رکھنے والی معلومات بھی ہیں۔ ان پر بھی تعقل کا اطلاق ہوتاہوگا جب وہ عملی پہلو کی حامل ہوں گی۔ تفسیر المیزان میں کہ تعقل وہاں بولا جاتا ہے جہاں فہم و ادراک کے بعد انسان مرحلہء عمل میں داخل ہو۔
و قالو ” لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر۔“
اور دوزخی کہیں گے کہ اگر ہمارے سننے والے کان ہوتے اور تعقل کرتے تو اہل جہنم کی صف میں نہ ہوتے۔ (ملک۔۱۰)
” افلم یسیرو فی الارض فتکون لھم قلوب یعقلون بھا“
کیا انھوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی تاکہ اس کے ذریعے ان کے سمجھ لیتے ( حج۔۴۶)
ایسی آیات گواہ ہیں کہ اگر مجرم قیامت کے دن دنیا میں تعقل کرنے کی آرزو کریں کے تو اس سے مراد وہ تعقل ہے جس میں عمل شامل ہے۔ اس طرح جب خدا کہتا ہے کہ لوگ سیر و سیاحت کریں اور غور و فکر کے ذریعے اور دنیا کی کیفیت و وضعیت کے مطالعے سے کچھ چیزیں سمجھیں تو اس سے مراد بھی ایسا فہم و ادراک ہے جس کی مدد سے اپنا راستہ بدل لیں اور سیدھی راہ پر کامزن ہوں ۔

-
اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے دیجیئے
نام :  
ایمیل ایڈریس :
* کامنٹ
 
تصویر میں دکھائی دینے والے متن کو ٹائپ کریں