"نسوانیت کا محافظ پردہ"شاید کہ اْتر جائے ترے دل میں میری بات
خواتین < ارٹیکلز <

لاکھ لاکھ شکر ہے اس خدائے بزرگ وبرتر کا جس نے ہمیں  مسلمان پیدا کیا۔ ساری تعریفیں  اسی اللہ کے لئے ہیں  جو اس کا بھی خدا ہے جو اس کو مانتاہے اور اس کابھی جو اس کو نہیں  مانتا۔ اس کی طاقت کااندازہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں  بلکہ وہ ہمارے تصورات اور خیالات سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ اس نے ایک بار اپنی مقدس ترین کتاب میں  ایک چیلنج کیا تھا کہ اگر تمہیں  لگتاہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں  ہے تو اس جیسی ایک ہی سورة بناکے لائو اور آج تک کوئی ایسا نہیں  کرسکااور نہ کرسکے گا۔ اس نے ایک اور بات سورہ حج میں  مثال کے طور پر پیش کی تھی کہ جن معبودوں  کو خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں  تو نہیں  کرسکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں  سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ ان لوگوں  نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیساکہ اس کے پہچاننے کا حق ہے۔ واقعہ یہ کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے۔

بے شک اللہ تعالیٰ بہت عظیم اور دانا ہے کہ عورتوں  کو پردہ جیسی عظیم نعمت سے نوازا۔ پردہ عورت کا محافظ اور نگہبان ہے۔ عورت کا زیور ہے،اس کا حسن ہے۔ایک عورت اْسی وقت تک خوش رہتی ہے جب تک وہ پردے میں  ہو۔ پردہ اس کو وہ تمام چیزیں  عطا کرتاہے جن کی وہ متمنی ہوتی ہے۔ پردہ اس کو شرم وحیائ، وعطا کرتاہے۔فرشتوں  جیسی معصومیت عطا کرتاہے۔ میں  ایک باحیاء مسلمان عورت کی بات کررہی ہوں  ،ان فیشن کی ماری تتلیوں  کی نہیں  جو بے پردہ گھومنے کی عادی ہیں ۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ پردہ کے بارے میں  تمہارا کیا خیال ہے تو میرا جواب ہوگا کہ یہ اللہ کاحکم ہے۔ اسی اللہ کا جو دلوں  کے راز جانتا ہے اور جو گھات لگا کے بیٹھا ہے کہ میرے بندے میرے حکم پر کس طرح عمل کرتے ہیں  مگر اس نے ابھی تک اس لئے ہمیں  چھوٹ دے دی ہے کہ اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیاہے۔ ہم نماز کیوں  پڑھتے ہیں  اس لئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ہم روزہ کیوں  رکھتے ہیں  اس لئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ،بالکل اسی طرح پردہ بھی اللہ کا حکم ہے۔ پھر اس میں  اپنی رائے کہاں  سے آگئی۔ آج کل کی عورت پردہ کو اپنی ترقی میں  بڑی رکاوٹ سمجھے اور اس کو ایک جاہلی رسم اور  wardness Backکی علامت کہے  او رمذہب سے دور ہوکر دوسروں  کے کہنے پر چلے مگر وہ نہیں  جانتی کہ پردے کا یہ حکم انسانوں  کے پیدا کرنے والے اْس خالق نے اْتارا ہے جو ان کے مزاج وطبیعت ، ضرورت وتقاضوں  اور ان کی کمزوریوں  کو خوب جانتا ہے۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے ان کو پیدا کیاہے۔ اسی لئے اس خالق نے اس کو وہ اصول وضابطے بتائے ہیں  جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں ۔ انسانوں  کے بنائے ہوئے قانون تو برابر بدلتے رہتے ہیں  مگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے انسانوں  کو جو دستورِ حیات ملا اس میں کسی تبدیلی اور ردوبدل کی ضرورت نہیں  پیش آتی ہے۔چونکہ یہاں  خدا کا بنایا ہوا وہ دستور حیات ہے جو مستقبل میں  پیش آنے والے تغیرات کو بھی جانتاہے اور تغیرات پیدا بھی اسی کی قدرت ومرضی سے ہوں  گے اس لئے اسلامی دستور ِ حیات میں  لچک رکھ دی گئی ہے تاکہ کہیں  کسی زمانے میں  دشواری نہ پیش آئے۔ چنانچہ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ نے اس بات کا کھلا ثبوت پیش کردیاہے جب انسان ایسے اعلیٰ اور اٹل قانون اور ضابطہ حیات سے روگردانی کرے گا اور اپنے عقلی گھوڑے دوڑائے گا تو یقینی بات ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں  اپنی تباہی کا سامان پیدا کرے گا جس کو اس وقت کھلی آنکھوں  سے دیکھا جاسکتاہے۔سورہ احزاب میں  پردہ کے احکام بیان ہوئے ہیں  :

''اے نبی! اپنی بیویوں  اور بیٹیوں  اور مسلمانوں  کی عورتوں  سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادر کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں ۔

اس سے توقع ہے کہ پہچانی جائیں  گی اور ان کو ستایا نہ جائے گا''۔

اس آیت کے نزول کے بعد سے عہد نبوی میں  عام طور پر مسلمان عورتیں  اپنے چہروں  پر نقاب ڈالنے لگی تھیں  اور کھلے چہروں  کے ساتھ پھرنے کا رواج بند ہوگیا تھا۔ اپنا سر شرم سے جھکالیجئے۔ قرآن نے اس کو ایجاد کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کو رائج کر گئے ہیں ۔

سورہ نور میں  واضح الفاظ میں  کہا گیا '' اے نبی ، مومن مردوں  سے کہو کہ اپنی نظریں نیچے رکھیں  اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں  اور اپنی زینت کوظاہر نہ کریں  ،سوائے اس زینت کے جو خود ظاہر ہوجائے اور وہ اپنے سینوں  پر اپنی اوڑھنیوں  کے بگل مار لیا کریں  ''۔

پھر دوسری طرف فتنہ انگیزی کے جو خطرات تھے اْن کا سدباب اس طرح کیا گیا کہ مردوں  کو غضِ بصر کا حکم دے دیا گیا تاکہ اگر عفت مآب عورت اپنی حاجات کے لئے چہرہ کھولے تو وہ اپنی نظریں  نیچی کرلیں  او ربیہودگی سے اس کو گھورنے سے باز رہیں ۔ سمجھ بوجھ رکھنے والا خود فیصلہ کرسکتاہے کہ کہاں  اس کو حقیقی ضرورت درپیش ہے۔ ان تما م امور میں  ایک نیک نیت عورت کا قلب ہی سچا مفتی بن سکتاہے جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دل سے فتویٰ طلب کرو اور جو چیز دل میں  کھٹکے اس کو چھوڑدو''۔

ایک عورت قابل تعظیم ہستی ہے پردہ کرے تو اور بھی قابل تعظیم بن جاتی ہے۔ گھر سے نکلے تو دنیا کی میلی اور گندی نگاہوں  سے محفوظ رہتی ہے۔ اس میں  خوداعتمادی آجاتی ہے اور کوئی خوف محسوس نہیں  ہوتا۔ جب ایک ماڈرن لباس پہن کر کوئی لڑکی بازار میں  چلتی ہے تو تمام راہگیر اوردکاندار اس کی طرف دیکھنے لگتے ہیں ۔ خدا کی قسم پرد ے میں  بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ بے پردہ عورتیں  کیسے کیسے چل سکتی ہیں ۔اوّل تو ہمارا صحیح جائے قیام تمہارا گھر ہے۔ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں  سے تم کو اسی لئے سبکدوش کیا گیا ہے کہ تم سکون ووقار کے ساتھ اپنے گھروں  میں  رہو اور خانگی زندگی کے فرائض ادا کرو۔تاہم اگر ضرورت پیش آئے تو گھر سے نکلنا بھی تمہارے لئے جائز ہے لیکن نکلتے وقت پوری عصمت مآبی ملحوظ رکھو۔ نہ تمہارے لباس میں  کوئی شان اور بھڑک ہونی چاہئے کہ نظروں  کو تمہاری طرف مائل کردے ، نہ اظہار حسن کے لئے تم  میں  کوئی بے باکی ہونی چاہئے کہ چلتے چلتے کبھی چہرے کی جھلک دکھائو اور کبھی ہاتھوں  کی نمائش کرو، نہ چال میں  کوئی خالی اداپیداکرنی چاہئے کہ نگاہوں  کو خودبخود تمہاری طرف مائل کرے۔ ایسے زیور بھی پہن کر نہ نکلو جن کی جھنکار غیروں  کے لئے سامعہ نواز ہو۔ قصداً لوگوں  کو سنانے کیلئے آواز نہ نکالو۔ ہاں  اگر بولنے کی ضرورت پیش آئے تو بولو مگر رس بھری آواز نکالنے کی کوشش نہ کرو۔ ان قواعد اورحدود کو ملحوظ رکھ کر اپنی حاجات کے لئے تم گھر سے باہر نکل سکتی ہو۔

ایک مسلمان عورت سکارف پہن کر اپنے بالوں  کو بند رکھے ، عبا یا پہنے، دوپٹہ اوڑھ کر اپنا پورا جسم چھپائے۔پورا اسلامی پردہ استعمال کرے،یہ سب قابل تعریف ہے۔ پردہ آپ کا دشمن نہیں  بلکہ آپ کا دوست ہے۔ اس کی اہمیت وعظمت کو سمجھ کر آ ج سے ہی اس کو اپنے ڈریس کا لازمی جزو بنائیے۔ کل کو اپنے رب کریم کے پاس کیا منہ لے کر جائو گی اور اس آگ سے کیسے بچ پائو گی جس کا ایندھن بنیں  گے جِن اور انسان۔ خدا کا حکم نہ مان کر اس شخص کاحکم مانتی ہو جس نے کہا تھاکہ پردہ دل کا ہونا چاہئے۔ وہ خود تو جہنم میں  جل رہا ہوگا اور تمہیں  بھی اپنے ساتھ لے جائے گا۔ اس لئے خدا کے حکم سے انحراف کرنا بہت بڑی نادانی ہے۔اتنی بڑی کائنات کا بنانے والا اور اس کو چلانے والا خود جانتاہے کہ اس کا بنایا ہوابندہ اس دنیا میں  اپنی زندگی کیسے گذار سکتاہے۔ بلکہ یہ دنیا تو امتحان گاہ ہے ہمیں  اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہوگا اور ہم سے ہر ایک چیز کے متعلق بازپرس ہوگی۔تم نے اے بنتِ حوا نہ بدلنے کا عزم  کیا ہواہے مگر اس سے نعوذباللہ قرآن کی آیت نہ مٹے گی۔ تم اس میں  کوئی ترمیم نہ کرسکتی ہو۔ اس کا ایک ایک حرف عملی طور ثابت ہے۔ اس میں  تحریف کی گنجائش نہیں  بلکہ اگر تم نے ایسا کیا تو بہت بڑا گناہ ہوگا۔ تمہیں  شیکسپیئر تو زبانی یاد ہے۔فرائڈ کی

فلاسفی پر عمل پیرا ہو اور مغربی فلاسفروں  کو اپناIdeal بنایاہے مگر اپنے دین سے لاتعلق اور غفلت تمہیں  لے ڈوبے گی اور تمہارا نام خدانخواستہ لینے والا کوئی نہ ہوگا۔

تمہارے تمام مسائل کا حل اسلام میں  موجودہے۔ تمہاری شان رفتہ بحال ہوجائے گی۔ تم تو کل کی ماں  ہو ،جسے اپنے بیٹے کو تعلیم دینی ہے۔ اپنی بیٹی کی صحیح تربیت کرنی ہے ، تم تو خود اندھیروں  میں  بھٹک رہی ہو ، دوسروں  کو کیا راہ دکھائو گی   شاید کہ اْتر جائے ترے دل میں  میری بات۔

خرد کی دست رس میں  ہے نہ سیم وزر کی قدرت میں

غموں  کی گتھیوں  کا  حل  نظامِ  مصطفی  میں  ہے

( یو این این )

مصنفین: تحریر حنیفہ بشیر & شیعہ نیٹ
مطلوبہ الفاظ: نسوانیت , پردہ , مسلمان عورت , سکارف , عبا , پہنے , دوپٹہ , اسلامی پردہ ,