"بیٹی کی پیدائش" اس رحمت کو زحمت نہ بنائیں
خواتین < ارٹیکلز <

اس حقیقت سے کوئی مورکھ بھی انکار نہیں  کر سکتا ہے کہ ابتدائ  آفرینش سے ہی ماں  کی کوکھ سے ہر بچہ ،بچی جنم لیتی ہے اور یہ سلسلہ ولادت تاقیام قیامت جاری وساری رہے گا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ روح اللہ حضرت عیسی ٰ کو عورت کے بطن سے ہی پیدا کیا ۔ یہ اعزاز عورت کو ہی حاصل ہوا اور ا?پ? بن باپ کے حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے ۔

رہا سوال جنس کا یہ بھی خدائے ذوالجلال کو ہی اختیار ہے کہ وہ کسی کو بیٹی سے نوازتاہے ،کسی کو بیٹے عطا کرتاہے ، پھر اولاد کس کے حق میں  رحمت بنتی ہے ، کس کے لئے زحمت یہ بات پرورشِ اولاد اور مشیت ایزدی پر منحصر ہے ۔

ماضی بعید میں  جہلائے عرب چونکہ خاندانی تفاخر کے مرض میں  مبتلا تھے ۔ رضائے الٰہی پر ایمان نہیں  تھا ،لہٰذا وہ کسی کا سسر و ساس بننا گوارا نہیں  کرتے۔جس کی وجہ سے وہ لڑکیوں  کو زندہ درگور کرتے تھے ۔ ان کی اس شقاوت قلبی کے باوجود عورت ذات مختلف روپ دھارتی رہی اور نسل انسان کا سلسلہ قائم ودائم رہا ۔اْس دورکوہم اکثر کوستے اور زمانہ قدیم عرب کے جاہل لوگورں  کی عقلوں  پر ماتم کرتے ہیں ۔اْس وقت ضبطِ تولید اور اسقاط حمل کے طریقے محدود تھے۔ عزل اور تولیدی مادہ کو زائل کرنے کے غیر سائنسی طریقے رائج تھے ۔ اگر ا?ج کل کی سائنسی تکنیک ان کو معلوم ہوتی تو وہ لڑکیوں  کے قتل کے الزام سے بدنام نہ ہوتے ۔

آج کے دور میں  ضبط تولید کے ذرائع اور وسائل مصنوبہ بند طریقے سے زوجین کو ہی نہیں  غیر شادی شدہ مرد اور عورتوں  کو شباب کی سرحد پر قدم رکھتے ہی حاصل ہوتے ہیں  ۔ خاندانی منصوبہ بندی کا درس، درس حیات کی طرح گھر گھر دیا جارہاہے لیکن آبادی ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے ، گھٹنے کا نام ہی نہیں  لیتی ۔ اس موضوع پر مغز ماری سے کام لیا جائے تو ذہن فوراً اس بات کی طرف جاتاہے کہ اگر بھارت کے قومی مشاہیر مثلاً مہاتما گاندھی ، جواہرلعل نہرو ، اندرا گاندھی ، لالو پرساد یادو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ تک کے والدین نے برتھ کنٹرول کے مروّجہ سائنسی طریقے اور وسائل کام میں  لائے ہوتے تو ان کا نام ونشان کہاں  ہوتا؟ اور ایسے ذہین وفطین لیڈروں  سے ہندوستانی قوم محروم رہتی ۔ علی ھذا القیاس اسی تناظر میں  دنیا کے ہر بڑے اور چھوٹے ا?دمی کو دیکھا جاسکتاہے ۔

الغرض جو بھی پیدا ہوتا ہے ،قیامت تک پیدا ہوگا ، وہ ماں  کے بطن کا ہی مرہون منت ہوگا ، کوئی کبھی بھی یہ نہ کہہ سکا یا آئندہ کبھی کہہ پائے گا کہ میں  نے ماں  کی کوکھ سے جنم نہیں  لیا ہے ۔ اس لئے بیٹی کی پیدائش قطعاً قبول نہیں لیکن اس جہالت ،اندھے پن اور بہیمانہ سوچ کا کیا کیا جائے کہ ا?ج کے اس روشن دور میں  بھی بچی کی پیدائش پر ماتم کیا جاتاہے ۔ جن کے ہاں  ایک سے زیادہ بچیاں  پیدا ہوجاتی ہیں  وہاں  تو ایسے ماتم منایا جاتاہے کہ جیسے جواں  سال گبرو کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔

زیر نظر تحریر کی محرک وادی  چناب کے اس خطہ کی دلدوز کہانی ہے جو خطہ زیارتوں  اور زعفران کی سرزمین ہے ۔قصہ یوں  ہے کہ یہاں  ایک بے ضمیر شخص کے ہاں  بیٹی پیداہوئی تو اس نے بیوی کو بیٹی جننے پر طلاق دے دی ۔ بیٹی کی پیدائش کاجرم ناکردہ گناہ کی طرح بچی کی بے قصور ماں  کے سر تھوپا گیا او راس کو طلاق دے کر زندہ درگو کیا گیا ۔ ایسے جاہل ،ظالم ، انسانیت کے قاتلوں  کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتاہے جو یہ بھول جاتے ہیں  کہ انہوں  نے بھی رحمِ مادر میں  قرار پاکر زندگی کے مراحل طے کئے ، ان کی بھی بہنیں  ، ماسیاں  ، پھوپھیاں ،دادی ، نانی اور دیگر رشتہ کی عورتیں  ہوتی ہیں  ، یہ بدخصلت لوگ یہ کیوں  بھول جاتے ہیں  کہ ان کے خاندان کا نسلی ارتقائ  کا باعث ہی عورت ذات ہے ،نہ کہ گائے بکری یا بھینس۔

جن کے ہاں  کوئی دین ہے ، نہ حشرومحشر کا دغدغہ ہے ، نہ اللہ کی گرفت کا کوئی تصور ہے اور جن میں  نہ احترام آدمی کی کوئی رمق ہی باقی ہے۔ وہ بیٹی کی پیداش سے سیخ پا ہوں  ۔ اسے معیوب ونجس اور باعث ذلت و خواری سمجھتے ہوں  تو چنداں  افسوس کی بات نہیں  ۔

ایک غیر مسلم دوست جج کے ہاں  یکے بعد دوسری بیٹی ہوئی ۔ راقم نے یہ کہتے ہوئے مبارکباد دی کہ اللہ کا شکر کہ ڈیلیوری نارمل ہوئی ،ا?پریشن کی نوبت نہیں  پہنچی ۔ جج صاحب نے کہا ''مشتاق صاحب ! خیر مبارک ، لیکن   آٹھ لاکھ روپے کی قرقی ہوگئی ۔' '  ان کے کہنے کا مطلب تھاکہ ان بیٹیوں  کی شادی بیاہ پر تو کم از کم آٹھ لاکھ روپے خرچ ہوں  گے ہی جبکہ اہل ایمان کو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ جس گھر میں  بچی پیدا ہو وہاں  اللہ کی رحمت کا نزول ہوتاہے اور جو لڑکی کی پرورش بہتر ڈھنگ سے کرے گا اس کے لئے جنت واجب ہے لیکن اس کے لئے ایمان کا پختہ ہونا لازمی ہے ۔

اس میں  شک نہیں  کہ آج کے دور میں  لڑکی گھر والوں  کے لئے بارِ گراں  ہے لیکن اس میں  لڑکی کا کوئی قصور نہیں  ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امیر اور نمائش پسند لوگوں  نے شادی بیاہ کی بیہودہ اور فضول رسموں  کو رواج دیاہے ۔ یہ لوگ منگنی ، نکاح اور رخصتی کی تقاریب پر بے حد وحساب اسراف کرتے ہیں  ۔ اپنے بڑے پن کی جی بھر کی نمائش کرتے ہیں  ۔یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ اپنی تقاریب ورسموں  پر مسلمان سماجی تفاخر ، ظاہرداری ،نام ونمود ، صاحب زر ہونے کی شہرت غرضیکہ سب معقول ونامعقول ذہن میں  رکھتاہے۔ اگر دماغ شریف میں  کوئی بات نہیں  رکھتاہے تو وہ رضائے الٰہی اور خوشنودی رسول محترم  ہے ۔(یو این این)

مصنفین: مشتاق فریدی & شیعہ نیٹ
مطلوبہ الفاظ: لڑکی گھر والوں , لڑکی , شادی بیاہ , منگنی , نکاح , رخصتی کی تقاریب , اسراف , مسلمان , سماجی تفاخر , ظاہرداری , ماں کی کوکھ , بچی , خاندانی تفاخر , عورت , بیٹی , پیدائش , رحمت ,