"انٹرنیٹ اور ہم" بچوں کی اخلاقی ودینی تعلیم پر توجہ کی ضرورت
سماجی < ارٹیکلز <

آج کئی دنوں کے بعد وہ چیٹنگ کے موڈ میں تھا ،اِسی درمیان اچانک اْس کی نظر اْس فوٹو پر پڑی جو بہت ہی جاذب نظر دکھائی دے رہا تھا ۔خاص کر اْس فوٹو کی آنکھوں میں غضب کا جادو تھا ۔اس نے اس وقت اس کے ساتھ چیٹنگ شروع کردی ۔تھوڑی بہت جانکاری حاصل کر لی، چونکہ رات کے بارہ بجے تھے ،اس لئے کمپیوٹر بند کر لیا مگر وہ آنکھیں اسے بار بار یاد آرہی تھی ۔ان آنکھوں کی کشش اسے اپنی طرف راغب کر رہی تھی ۔وہ بمشکل دو ڈھائی گھنٹے سویا تھا صبح دیر ہونے کی وجہ سے اْس کا خیال بٹ گیا مگر گھر واپس آکر پھر وہ چہرہ ،وہ آنکھیں اسے ستانے لگی تو اس کے ہاتھ کمپیوٹر کی طرف بڑھ گئے ،جہاں وہ پھر دکھائی دی ۔ا?ہستہ ا?ہستہ وہ چیٹنگ کے دوران اتنا آگے بڑھ گئے کہ اْنہوں نے بغیر سوچے اپنے والدین کے ارمان ،اْن کے خواب طاق پر رکھ لئے اور سماج میں بْرائی پھیلانے والوں کے حصہ دار بن کر اْنہوں نے غیر شرعی روابط و مراسم قائم کئے ۔ اس احساس کے بغیر کہ والدین کی رضا مندی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے ،کتنی زندگیاں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں ۔جب ایسے رشتے ہوکر بھی نہیں ہوتے ہیں یا ناکام ہوجاتے ہیں ۔ایسے پیار کا بخار چڑھنے اور اْترنے میں کچھ لمحوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی لمحے عمر بھر کا ناسور بھی بن جاتے ہیں یا کہیں زور زبر دستی سے ایسے پاگل پن کے بندھن توڑ دئے جاتے ہیں تو بھی ان کی زندگی ایسا رستا ناسور بن جاتا ہے،جو مند مل ہونے کے بجائے رِستا رہتا ہے۔

سب سے پہلے سوچنے والی بات کیا انٹرنیٹ سے جہاں انسان و سیع تر معلومات حاصل کرکے زندگی کے ہر پیلو سے استفادہ کر سکتا ہے ،وہی پر یہ حر کات انسان کو کتنی پستی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ بچے کسی حد تک اپنی مرضی کے بھی مالک ہوتے ہیں مگر کیا ہم اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہمیں ہمارا مذہب، ہمارا سماج ، ہماری تہذیب ،ریتی رواج، ہمارے بزرگوں کی تعلیم، ہماری شرم و حیا ئ  کی کوئی وقعت نہیں رہی ۔کیا ہماری ا?نکھوں کا پانی مر گیا؟ ا سلام نے ہمیں حق دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر رشتہ طے کر یں نہ کہ لڑ کا  لڑکی  چوری چھپے شہوت کی بنیاد پر رشتے استوار کرنے پر بیٹھ جائیںیہ نہ صرف شرمسار کرنے والی حرکت ہے بلکہ سماج کیلئے بھی سیاہ باب کے مترادف ہے ایسی نازیبا حرکتیں سماج میں اخلاقی پستی پھیلانے کی موجب بن جاتی ہیں اور اس سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہیں رہتا جس سے اس روش میں روز بروز اضافہ ہوجاتا ہے

آچ کل کے دور میں جب والدین صحیح طور پر بچوں کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کی تربیت سے غافل ہو جائیں ،انہیں بد قسمتی سے والدین کو دْنیاوی مصروفیات نے ایسا غافل کر دیا ہے کہ ان کو اپنے بچوں کی نگاہ داشت کی فکر ہی نہیں ۔ بچے کہاں جاتے ہیں کیا کرتے رہتے ہیں ؟ان کے کیا مشغلے ہیں؟ وہ اس سے بالکل بے خبر ہیں ۔نتیجتاً بچے بری سنگت میں پڑجاتے ہیں ۔ان کی عادتیں بگڑ جاتی ہیں اور ان سے ایسی حرکتیں سرزد  ہوجاتی ہیں ،جو نہ صرف سماج کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں بلکہ ان کے والدین بھی متاثر ہو ئے بغیر نہیں رہتے ۔دراصل اگر دیکھا جاے تو بچوں کی صحیح نشوو نما کا منبع اور پہلا اصلاحی مرکز گھر ہی ہوتا ہے ، جب وہی اصلاحی مرکز غفلت کی وجہ سے انحطاط اور انتشار کا شکار ہوجاتا ہے تو ایسی صورت حال میں بچوں پر اس کا منقی اثر پڑنا لازمی ہے ۔لہٰذا سب سے پہلے والدین پر فرض عائید ہوتا ہے کہ وہ دنیاوی مصروفیات کے ساتھ ساتھ بچوں کوصحیح اخلاقی و دینی تربیت دیں اور ان کو ہر حرکت کے لئے جواب دہ بنائیں تاکہ ان کو یہ احساس  ہوکہ اگر وہ غلط سنگت میں پڑجاتے ہیں یا کوئی نازیبا حرکت کرتے ہیں ،اس حوالے سے ان کی نہ صرف بازپرس ہوگی بلکہ سزا بھی بھگتنی پڑے گی۔

علمائ  حضرات پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ واعظ وتبلیغ کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کریں،والدین کو صحیح تربیت کے حوالے سے دینی تعلیم دینے کی تلقین کریں اور والدین جو غفلت برتتے ہیں اس پر انہیں سر زنش کریں اور ان کو قرآن و سنت کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے اپنے فرائض کی ادائیگی کی تلقین کریں۔

میں آج کل کے نوجوان بیٹے اور بیٹیوں سے استدعا کرتی ہوں کہ وہ انٹرنیٹ کو استعمال کریں لیپ ٹاپ کو ساتھ ساتھ رکھیں مگر وہاں کار آمد انفارمیشن حاصل کرکے نہ صرف سماج کے سپوت بن جائیں بلکہ اپنے والدین کے وہ چراغ بن جائیں جس کی جوت ان کے بڑھاپے کا وہ سہارا ہو جس پر وہ جتنا فخر کریں کم ہو۔بجائے اس کے کہ وہ اس دن کو کوسیں جس دن ان کے اس بچے کی پیدائش ہوئی (یو این این)

مصنفین: نگہت رسول & شیعہ نیٹ
مطلوبہ الفاظ: "انٹرنیٹ , بچوں , اخلاقی و دینی تعلیم , چیٹنگ , بچوں کی تربیت , نوجوان بیٹے اور بیٹیوں , والدین