"رشتوں کی ڈور" زندگی کا قرینہ جینے کا یہ سلیقہ
سماجی < ارٹیکلز <

رشتے اور تعلقات زندگی کا وہ عظیم سرمایہ ہیں ،جن  سے بڑھ کر دنیا میں  کسی چیز کا تصور نہیں  کیا جاسکتاہے ، قریبی رشتو ں  اور گہرے تعلقات میں  وہ فطری جذبہ  اْنس ومحبت پنہاں  ہوتاہے جو ہمیں  ایک دوسرے کے رنج وتکلیف اور مسرتوں  میں  کھینچ لاتاہے اور ہمیں  زندگی کے مختلف مرحلوں  اور اْتار چڑھائو کے وقت شریک ہونے کا موقعہ فراہم کرتاہے ۔چونکہ زندگی رنج والم اور خوشیوں  کاامتزاج ہے۔یوں  سمجھ لیجئے کہ رنج اور فرحت میں  چولی دامن کا ساتھ ہے البتہ قریبی رشتے اور گہرے تعلقات ہماری زندگی کے لئے ایک اہم معنی رکھتے ہیں  ۔رشتوں  اور تعلقات کے بغیر زندگی بالکل ویران نظر آتی ہے مگر رشتے اور تعلقات اس ویران زندگی میں  اس طرح مسرتیں  لوٹاتے ہیں  جس طرح بہار کا موسم سرسبزی وشادابی اور کیف آور فضا کا پیغام لے کر آتاہے ، یہ دور و نزدیک کے اعزہ و اقارب ہماری زندگی کو سکون واطمینان کی دولت سے بھر دیتے ہیں  ۔ چونکہ انسان کی زندگی مختلف مراحل سے گذرتی ہے ۔بعض اوقات رنج وتکلیف اس طرح انسان کی زندگی میں  پے درپے حملے کرتے ہیں  جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں  او ربعض اوقات مسرتیں  انسان کے رنج وتکلیف کو دورکرکے اس کی زندگی کو خوشیوں  اور راحت سے دوبالا کردیتے ہیں  لیکن خوشی ہو یا رنج وتکلیف ان سب میں  قریبی رشتے اور گہرے تعلقات ہمارے ساتھ دوش بدوش نظر آتے ہیں  ۔غرض یہ کہ رشتے ناطے ہماری زندگی میں  خوشیوں  کے پیغام کے مترادف ہیں  ۔قریبی رشتے اور گہرے تعلقات جو اصولوں  کی بنیاد پرقائم ہوتے ہیں  ،کبھی کمزور نہیں  پڑسکتے ہیں  بلکہ یہ ہمیشہ قائم رہتے ہیں  ، اس لئے اصولوں  کی پاسداری رشتوں  او رگہرے تعلقات کے استحکام کے لئے ریڑھ کی  ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں  ہرچیز کے استحکام کے لئے چند ضابطوں  یا اصولوں  کی پیروی ضروری ہے،ٹھیک اسی طرح رشتوں  او رتعلقات کو قائم رکھنے کے لئے چند چیزوں  کا ہونا نہایت لازمی ہے یعنی محبت ،فکر ، ہمدردی ،صلہ رحمی ، اعانت ،خبرگیری ، غمگساری ، دلجوئی اور سب سے بڑھ کر احترام ان چیزوں  کی پاسداری نہ ہو تو رشتوں  میں  خلائ  او ربعد پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔یہی قریبی رشتے اور گہرے تعلقات خاندانوں  اور برادریوں  کو وجود میں  لاتے ہیں  اور یہی خاندان اور برادریاں  زندگی کی دوڑمیں  سکون وٹھہرائو لاکر اْس میں  مسرتوں  کے رنگ بھر دیتے ہیں  ،خاندان او ربرادریاں  ہماری زندگی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں  ۔مشرق میں  اللہ عزوجل کے فضل سے خاندانی نظام ابھی بھی کسی حد تک باقی ہے لیکن اس کے مقابلے میں  مغربی اقوام میں  یہ نظام ٹوٹ چکاہے اس لئے وہاں  رشتوں  کا کوئی تصور تک باقی نہیں  رہاہے ، وہاں  رشتوں  کی اہمیت نہ ہونے سے اْن کی زندگی میں  انتشار وپراگندگی پائی جاتی ہیں ۔ مغرب میں  خاندانی نظام کے بْری طرح کمزور پڑ جانے سے مرد وعورت آزاد شہوت رانی کے قائل ہوچکے ہیں  ،اسی لئے وہ نکاح کی بندش سے آزاد ہوکرحتیٰ کہ رشتوں  اور خاندان کی ذمہ داریوں  اور اس کی تعمیر سے آزاد ہوکر اس کا بوجھ اٹھانا نہیں  چاہتے اور رہے وہاں  کے شادی شدہ افراد تو وہ اپنے بچوں  کو نرسری کے حوالے کرکے اپنا وقت سیر سپاٹوں  ، تفریح گاہوں  اور سنیما،کلبوں   میں  گذارنا پسند کرتے ہیں  ۔اس وجہ سے وہاں  اخلاقی قدریں  بری طرح پامال ہورہی ہیں  ۔ رہے رشتے وناطے تو وہ بہت پہلے ہی وہاں  بْری طرح سے متاثر ہوچکے ہیں  حالانکہ رشتے اور تعلقات اور خاندانی نظام کی قدر وقیمت ہر دور میں  مسلم رہی ہے ، چونکہ ایک انسان کے جن لوگوں  سے رشتے یا جن لوگوں  سے گہرے تعلقات (دوستی وقربت)ہوتے ہیں  اْن سے انسان کا جذباتی تعلق بھی ہوتاہے ، وہ اپنے رشتہ داروں  ، دوستوں  اور خاندان والوں  کے ساتھ دلی قربت اور یگانگت محسوس کرتاہے او ررنج وراحت میں  اپنے رشتہ داروں  ، دوستوں  ، عزیزوں  کو شریک دیکھنا چاہتاہے۔ وہ رنج وتکلیف اور خوشگوار موقعوں  پر اپنے افرادِ خانہ اور دور ونزدیک کے عزیزوں  ودوستوں  کو دیکھ کر شادہوتاہے ۔رشتہ دار ،دوست اورعزیزواقارب اس کی خوشیوں  کو دوبالا کرتے ہیں  ۔ ان کی محبت اور ہمدردی اس کے رنج وتکلیف کو کم کرتی اور اسے سکون فراہم کرتی ہیں  ۔ اس طرح رشتہ دار ، دوست ،افراد خانہ اور دیگر عزیزواقارب ایک انسان کے لئے نہ صرف ایک ضرورت بلکہ باعث ِ سکون وفرحت بھی ہے ۔دیکھا جائے تو ایک انسان کے لئے اْس کا خاندان ،رشتہ دار او روہ لوگ جن سے گہرے مراسم ہوتے ہیں  یعنی جو اس کے دْکھ سکھ میں  برابر شریک رہتے ہیں  ،سب مل ایک ادارے (Institution)کی مانند ہیں  ۔

رشتوں  ناطوں  اور خاندانی نظام میں  اتحاد واستحکام ہماری خوشگوار زندگی کے لئے از حدضروری ہیں ۔ خوشگوار خاندان ہی ایک اچھے اور پْرسکون معاشرے کو جود میں  لاسکتے ہیں اور انہی صحتمند معاشروں  سے شر وبگاڑ سے پاک ریاست تشکیل پاسکتی ہے جن معاشروں  میں  خاندانی نظام انتشار کے شکار ہو ں وہاں  کسی صحتمند معاشرے کے توقع نہیں  کی جاسکتی اور نہ ہی وہاں  پْرسکون زندگی کا تصور کیا جاسکتاہے ۔ گو کہ خوشگوار خاندان او رپْرسکون زندگی میں  چولی دامن کا ساتھ ہے یعنی جن خاندانوں  میں  انتشار وپراگندگی ہو، ایسے خاندان سکون ومسرت کی دولت سے محروم رہتے ہیں  ، اس طرح ایسے خاندانوں  کے افرادزندگی کی اصل دولت یعنی سکون سے محروم رہتے ہیں  اورپھر زندگی جواصل سرمایہ ہے ، ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں  رکھتی ہے او راس کااثر ان کی آنے والی نسل پر پڑتاہے اور وہ آنے والی نسل پھررشتوں  کی اہمیت وحقیقت سے ناا?شنا رہتی ہے اور جو لوگ رشتوں  کی حقیقت سے ناا?شنا رہے تو حقیقت میں  ایسے لوگ انسانیت سے بھی بے خبر رہیں  گے کیونکہ انس ومحبت جورشتوں  کی روح ہے ،انسانیت کا اصل جوہرہے ۔اس لئے رشتوں  کا باہم مربوط ومضبوط ہونا ، خاندان کی تاسیس کے لئے لازم وملزوم ہیں  لیکن ہمیں  یہ با ت ذہن میں  رکھنی چاہئے کہ رشتے کئی اہم چیزوں  کا تقاضا کرتے ہیں  جیساکہ ان کا تذکرہ اوپر بھی ہوا یعنی محبت ،فکر او رخاص کر قربانی یہ سب اوصاف رشتوں  اورگہرے تعلقات کو دوام عطا کرتے ہیں  ۔اس کو ایک مثال سے آسانی سے سمجھا جاسکتاہے ۔ ماں  باپ اپنے بچوں  کے لئے چھوٹی سے چھوٹی قربانی سے لے کر بڑی سے بڑی قربانی تک دینے سے نہیں  کتراتے ہیں  ، بچوں  کی حفاظت صحت کا مسئلہ ہو یا ان کے روشن مستقبل کا مسئلہ یا کوئی اور بات انہیں  ہمیشہ یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ ان کی اولاد ہرلحاظ سے ٹھیک رہے  اور وہ معاشرے میں  ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے معقول ،شریفانہ او رنیک زندگی بسر کریں  ۔ ماں  باپ کااپنی اولاد کے تئیں  یہ فکر اور اضطراب ان کے گہرے تعلق ، حد درجہ محبت اورخلوص کی غمازی کرتاہے اور یہی مذکورہ اوصاف انہیں  دنیا ،خاندان اور اولاد کی نگاہوں  میں  اونچامقام دلاتی ہیں  اور یہ بات ہمیں  ذہن میں  رکھنی چاہئے کہ اولاد کا اپنے ماں  باپ کے ساتھ سب سے اعلیٰ اور اوّلین رشتہ ہوتاہے ، اس کے بعد دورونزدیک کے افراد سے جو تعلقات استوارہوتے ہیں  وہ ثانوی نوعیت کے ہوتے ہیں ۔

متذکرہ بالا بحث سے یہ بات خودبخود عیاں  ہوجاتی ہے کہ رشتوں  کی اصل حقیقت فکر اورقربانی ہیں  ۔یہ چیزیں  نہ ہوں تو رشتے اور تعلقات بے معنی ہوکررہ جاتے ہیں  ۔ہم میں  سے اکثر یہ دیکھتے ہیں  کہ بعض اوقات قریب سے قریب تر رشتوں  میں  بھی بْعد ہوجاتاہے او رکچھ رشتوں  میں  فکر ومحبت اور غمگساری کا وہ جذبہ نہیں  ہوتاہے جس کا رشتے تقاضا کرتے ہیں  ۔نتیجتاً رشتوں  میں  تلخیاں  پیدا ہونے لگتی ہیں  جن  کی وجہ سے خاندانی نظام تک متاثر ہونے لگتاہے ، جو انتہائی سنگین او رنازک مسئلہ ہے پھر گلے شکوے اورشکایات تک نوبت ا?جاتی ہے اور یہی گلے شکوے ہماری زندگی میں  پریشانیوں  اور اداسیوں  کے اسباب بنتے ہیں   جو ایک طرف ہماری پْرسکون زندگی کے لئے ٹھیک نہیں  ہے تو دوسری طرف خاندانی نظام کے استحکام کے لئے غیر مناسب وناخوشگوار ہیں ،کیونکہ خاندانی نظام اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے  اور اسی نعمت کی بدولت انسانوں  کی یہ دنیا حیوانوں  کی دنیا سے ممتاز اور مشرف ہے ۔حیوانوں  اورانسانوں  کے درمیان ایک بڑا فرق (Major Difference)خاندان کا بھی ہے ، چونکہ حیوان کی فطرت رشتہ داری یا خاندان سے نا آشنا ہے کیونکہ ان میں  وہ شعورہی نہیں  ہے ،اس لحاظ سے وہ حقوق اور ذمہ داریوں  سے پرے رہتے ہیں  لیکن اس کے مقابلے میں  انسان کو اللہ تعالیٰ نے شعور اور ادراک کے وصف سے نوازاہے ۔یہی وجہ ہے کہ انسان فطری طور اجتماع پسند واقع ہواہے ، اس لئے وہ سماج سے کٹ کر انفرادی زندگی گذارنے میں  لذت محسوس نہیں  کرسکتا ہے ،انسان اپنی نوع سے الگ تھلگ رہنے کی کتنی ہی کوشش کرے اس کی فطرت اس سے انکار کرتی ہے اور آخر کار اسے خاندان اور سماج کی طرف چار وناچار رجوع کرنا ہی پڑتا ہے۔ مشاہدے میں  آچکاہے کہ مغربی اقوام کا ذی شعو رطبقہ آج یہ محسوس کررہاہے کہ جس نام نہاد آزادی کا انہوں  نے ڈھنڈورہ پیٹا تھا ، آج خاندانی اور معاشرتی انتشار کی شکل میں  اس کے بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں  ۔کہاجاسکتاہے کہ اس کی بنیادی وجوہات موجودہ مشینی دور ، مغربی اقوام کی سائنس وٹیکنالوجی میں  محیرالعقول ترقی اور جدید دنیا کے رجحانات ہیں  لیکن حقیقت کی نظروں  سے دیکھا جائے تو ان باتوں  میں  خاصا وزن نہیں  ہے ۔ دراصل اس کی وجوہات کچھ اور ہیں  جن کا اس مختصر مضمون میں  تذکرہ نہیں  ہوسکتاہے ۔ اللہ نے توفیق دی تو اس اہم موضوع پر ضرور روشنی ڈالیں  گے ۔بہرحال رشتوں  کی قدر وقیمت اور خاندان کا استحکام ایک پْرامن اور خوشگوار معاشرے کے لئے لازم وملزوم ہیں  ۔اس لئے رشتوں  کوقائم اور مستحکم رکھنے کے لئے ایک دوسرے کی خبرگیری ،فکر ، غمگساری ، محبت اورقربانی جیسے اوصاف کا ہونا لازمی ہے۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جس قدر ہمارے دلوں  میں  دوسرے انسانوں  کیلئے تعلق ومحبت کے جذبات پائے جائیں  گے اسی قدر وہ ہم سے قریب سے قریب تر ہوتے جائیں  گے ۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کیونکہ خالق کائنات نے انسانی فطرت میں  انس ومحبت ودیعت کی ہے۔ انگریزی میں  ایک مشہور مقولہ ہے کہ محبت سے محبت بڑھتی ہے اور یہی محبت رشتہ داری کی جان ہے ۔ نیزہمیں  رشتہ داری میں  اور وسعت لانی چاہئے کیونکہ ا?قائے نامدار ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ ''پوری کائنات ایک کنبے کی مانند ہے اور اللہ تعالیٰ کو کائنات میں  سب سے زیادہ عزیز

وہ ہے جو اس کنبے سے سب سے زیادہ محبت رکھے ''۔ ظاہرہے کہ رسول رحمت   سے بڑھ کر اور کون شخص ایسا ہوسکتاہے جو اللہ تعالیٰ کے کنبے سے ازحد محبت رکھے ۔ رسول رحمت  کے اس عظیم ارشاد سے جو حقیقت کھل کرسامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر ہم جنہیں  اپنے رشتہ دار سمجھتے ہیں  وہ خاص طور پر ہمارے گھر کے لوگ یاد یگر افرادِ خاندان ہوتے ہیں  جن سے ہمارا خونی رشتہ ہے لیکن ان سے باہر جو بھی لوگ ہیں ، چاہے ہمارے قریبی دوست جن سے ہمارے گہرے مراسم ہوتے ہیں ، انہیں  ہم رشتہ داری کے زمرے میں  شمار نہیں  کرتے ہیں  ، جو سراسرلاعلمی او رناانصافی پر مبنی ہے ، اسی حقیقت کونگاہ میں  رکھ کر دانائے رازِ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم ومغفور  وجدکے عالم میں  آکر اس حقیقت کا اظہار خوبصورت الفاظ میں  کچھ اس طرح کرتے ہیں  کہ ''تمام بنی انسان آپس میں  عزیز ورشتہ دار ہیں  کیونکہ حیاتِ انسانی کی جڑ ایک ہے  پھر کیا وجہ ہے کہ چند آدمیوں  کے بگاڑسے جن کو ہم خاص طور پر اپنا رشتہ دار کہتے ہیں  ہم کو رنج ہوتاہے اور باقی لوگوں  کے بگاڑ سے ہم پر کچھ اثر نہیں  ہوتاحالانکہ عزیز توحقیقت میں  وہ بھی ہیں  ؟ انسان اس فطری میلان سے مجبور ہے کہ جو آدمی خون کے اعتبار سے ہمارے قریب ترہے ان کو اپنا رشتہ دار کہتاہے اور جو دور ہیں  ان سے بے تعلق ہوجاتاہے حالانکہ خون اور زندگی میں  نزدیکی ودوری کچھ حقیقت نہیں  رکھتیں  ''۔تو قریبی تعلقات کی وجہ سے جو پریشانی ہم کو لاحق ہوتی ہے اس کی بنائ  اصل میں  ناانصافی پر ہے۔ ناانصافی یہ کہ بعض افراد کو قربِ خونی کی وجہ سے قریب جاننا او ربعض کو بْعدِ خونی کی وجہ سے بعید جاننا حالانکہ زندگی کی حقیت قرب وبْعد سے مْعرّا ہے اور اس ناانصافی کا مظاہرہ جگہ جگہ ہو رہاہے، دورِ جدید کا انسان قدیم انسان کے مقابلے میں  کچھ زیادہ ہی خودغرض ثابت ہواہے ، جدید دنیا کے رجحانات ،سہولت او رمادّی تصورات نے انسان کو عیش وعشرت کا غلام بن کے چھوڑ رکھاہے ،وہ بھول چکاہے کہ و ہ خاندان کا ایک ذمہ دار فرد ہو نے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور ملت کا بھی ایک اہم رْکن ہے ، وہ جدید دنیا اس کے رجحانات اور غیر ضروری لوازمات کے پیچھے پڑاہے ۔حرص وہوس نے اسے اس کی قلبی بصیرت چھین لی ہے۔ وہ اخلاقی اصول واقدار کو فراموش کرچکاہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشرے اور ملت کے ذمہ دار افراد ہوتے ہوئے معقول ، سادہ ، شریفانہ اور نیک زندگی گذارنے کے علاوہ رشتہ داری کے حقیقی اصولوں  پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے خاندان کے رشتہ داروں  کے علاوہ تمام نوعِ انسانی کو اپنے رشتہ دار تصور کریں  اور رشتے داری کے اصل جوہریعنی فکر ، محبت ،ہمدردی اور قربانی جیسی چیزوں  سے نہ صرف آشنا بلکہ ان پر عمل پیرا ہوجائیں  ۔ آخر میں  اس شعر پر اختتام کرتاہوں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔۔۔ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں (یو این این)

مصنفین: شیخ ہلال علوی& شیعہ نیٹ
مطلوبہ الفاظ: , رشتوں کی ڈور , زندگی کا قرینہ , جینے کا سلیقہ , رشتے , تعلقات زندگی , خاندان , برادریاں , زندگی , خاندانی نظام ,