"حجاب " عورت کا تحفّظ
خواتین < ارٹیکلز <
"حجاب" بمعني پردہ، حجاب، چھپانا، پنہان کرنا اور رکاوٹ؛ خواہ يہ رکاوٹ پردے اور ديواري کي طرح مادي ہو، (1) يا معنوي ہو- يہ لفظ سات بار قرآن ميں دہرايا گيا ہے اور ان سات مقامات پر (2) حجاب سے مراد وہ چيز ہے جو دوسري چيز کے ديکھنے ميں رکاوٹ ہو؛ جيسا کہ ہم قرآن مجيد ميں رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) کي زوجات کے بارے ميں ارشاد ہوا ہے:

{إِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ} (3)

"جب ان خواتين سے کوئي چيز مانگو تو ان سے پردے کے پيچھے سے مانگو"-

اس آيت کے ذيل ميں (4) جہاں ارشاد ہوتا ہے کہ: {ذَلِكَ اَطهُر لقلوبِكم و قُلوبِهُنَّ} (يہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رکھنے کا زيادہ باعث ہے) کو مدنظر رکھ کر سمجھا جاسکتا ہے کہ قرآن عورت اور مرد کي معاشرت کے آداب بيان فرما رہا ہے؛ جيسا کہ آيت کا آغاز بھي اسي موضوع ميں تھا اور سورہ احزاب کي آيات 32 اور 60 جو اسلامي حجاب کے بارے ميں ہيں اور نامحرم مرد اور عورت کے درميان رابطے کي کيفيت کے حوالے سے ہدايات دے رہي ہيں، لہذا لفظ "حجاب" قرآن ميں اصطلاحي اسلامي حجاب کے معني ميں نہيں ہے اور اسي وجہ سے بعض لوگوں نے گمان کيا ہے کہ عورت کو ہميشہ ديوار اور پردے کے پيچھے بند رہنا چاہئے اور باہر نہ نکلے، يا پھر ويل دورانت کي طرح (5) کہہ ديں کہ "يہي بات خود مسلمانوں کے درميان پردہ پوشي کي بنياد بن گيا ہے"- (6) يا پھر دعوي کيا جاتا ہے کہ حجاب ايرانيوں سے عربوں کي طرف سرايت کرگيا ہے، حالانکہ عورتوں کے لباس اور پردے کي آيات کريمہ ايرانيوں کے مسلمان ہونے سے پہلے نازل ہوئي ہيں-

اللہ تعاليٰ نے شيطان کو وہاں سے نکالنے کے بعد آدم اور حوا کو حکم ديا کہ تم اس باغ ميں رہو اور جہاں سے جو چاہو کھاۆ پيو، ليکن اس درخت کے پاس مت جانا ورنہ تم ظالموں ميں سے ہو جاۆ گے - چنانچہ شيطان جو ان کي تاک ميں تھا اس نے دونوں کے دلوں ميں وسوسہ ڈالا اور ان کو اللہ کي نافرماني پر آمادہ کيا-

قرآن مجيد نے اس واقعے کا ذکر اس طرح سے کيا ہے :
فوسوس لھما الشيطٰن ليبدي لھما ما وظرِيَ عنھما من سَوْاٰتِھِمَا(سورۃ الاعراف7:20)

’’پھر شيطان نے ان دونوں کے دلوں ميں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کي شرم گاہيں جو ايک دوسرے سے پوشيدہ تھيں دونوں کے روبرو بے پردہ کر دے - ‘‘

آدم اور حوا شيطان کے بہکاوے ميں آ گئے اور اللہ کے قانون کي خلاف ورزي کر بيٹھے- اس کے بعد اپني غلطي پر شرمندہ ہوئے - جس پر اللہ نے ان پر اپني رحمت اور بخشش کي اور ان کي غلطي کو معاف کر ديا- اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شيطان کا سب سے پہلا وار جو بني نوع انسان پر ہوا وہ يہي تھا کہ وہ ان کو بے پردہ کر دے - اللہ نے انسان پر جو حدود و قيود عائد کي تھيں ان کا مقصد يہي تھا کہ دونوں کے درميان پردہ برقرار رہے - مگر شيطان نے اس پردے پر وار کرکے انسان کو اس پاکيزہ مقام سے نيچے دھکيل ديا-

آج بھی اگر اسلامی معاشرے کا مغربی معاشرے سے موازنہ کیا جاۓ تو مغربی معاشرے میں بے راہ روی اور آزاد خیالی کی وجہ سے معاشرتی اور سماجی پسماندگی نظر آتی ہے ۔ مغربی معاشرے میں عورت کو صرف جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی سرعام نمائش کی جاتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا ایک مختصر جائزہ ظاہر کرتا  ہے کہ نئے پیدا ہونے والے بچوں میں سے اکثر ناجائز ہیں۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان حالات کے پیچھے کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے امریکی معاشرے میں اتنی اخلاقی گراوٹ پائی جاتی ہے ۔ اس  سارے مسئلے کی اصل جڑ عریانیت اور مردوں اور عورتوں کے درمیان بغیر کسی حد کے رشتے ہیں۔ جب عورت کی عریانیت ایک معاشرےکی اقدار میں شامل ہو جا‎ۓ،تو خود کی نمائش اسکے لئے کوئی بڑی بات نہیں رہتی ہے ۔ عورت  عریانیت اور فحاشی کو اپنی روزی کا ذریعہ بنا لیتی ہے اور یوں ایسا معاشرہ ذلالت کی گہرائیوں میں گرتا چلا جاتا ہے ۔ 

حوالہ جات:

1- راغب اصفهاني، المفردات في غرائب القرآن، قم، نشر الكتاب، ج دوم، ص 108؛ سيد علي اكبر قرشي، قاموس قرآن، ج2 ، تهران، دارالكتب الاسلاميه، 1361، ج 3، ص 103 – 105؛ سورہ مريم (19) ، آيت 33؛ سورہ احزاب (33) ، آيت 17؛ سورہ اعراف (7) ، آيت 53-

2- سورہ شوري (42) ، آيت 51؛ سورہ فصلت (41) ، آيت 5؛ سورہ اسراء (17) ، آيت 45-

3- سورہ احزاب (33) ، آيت 53.

4- مرتضي مطهري، مسئله حجاب، ص 74-

5- وہي ماخذ ص 73-

6- ويل دورانت، تاريخ تمدن، ترجمه: احمد آرام و ديگران، ج1 ، ص 433 و 434-
مصنفین: تقریب ڈاٹ آئی آر
مطلوبہ الفاظ: , "حجاب " عورت کا تحفّظ , حجاب , عورت کا تحفّظ , پردہ , حجاب , چھپانا , پنہان کرنا , رکاوٹ , قرآن مجيد , ذَلِكَ اَطهُر لقلوبِكم و قُلوبِهُنَّ , اسلامی معاشرے , مغربی معاشرے , عورت , خواتین ,